Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

بلوچستان ویمن جاب فیئر: 61 خواتین کو ملازمتوں کی پیشکش، 110 کے لیے بامعاوضہ انٹرن شپ

کوئٹہ، 28 اکتوبر: بلوچستان میں ہنر مند خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے منعقدہ ویمن جاب فیئر میں 61 خواتین کو ملازمتوں کی پیشکش کی گئی، جبکہ 110 خواتین کو بامعاوضہ انٹرن شپ کے لیے منتخب کیا گیا۔

سیکریٹری محنت و افرادی قوت بلوچستان صالح محمد ناصر نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نوجوانوں اور خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور انہیں روزگار کے پائیدار مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنر مند خواتین صوبے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور ان کی صلاحیتوں کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

وہ بلوچستان ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) کے زیر اہتمام جرمن ادارے جی آئی زیڈ، یورپی یونین اور برٹش کونسل کے اشتراک سے منعقدہ ویمن جاب فیئر سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریب کا مقصد ہنر مند خواتین کو صنعتی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ براہ راست رابطے، انٹرویوز اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا۔

جاب فیئر میں 365 ہنر مند خواتین نے 12 صنعتی اداروں اور کمپنیوں کے نمائندوں کے سامنے انٹرویوز دیے۔ ان میں سے 61 خواتین کو ملازمتوں کی پیشکش کی گئی، جبکہ 110 کو بامعاوضہ انٹرن شپ کے لیے منتخب کیا گیا، جس سے انہیں عملی تجربہ حاصل کرنے اور پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

منیجنگ ڈائریکٹر بی ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون نے کہا کہ ادارہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو جدید فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہا ہے تاکہ تربیت یافتہ افراد کے لیے روزگار کا حصول آسان ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں بھی ایسے جاب فیئرز منعقد کیے جائیں گے اور قومی و بین الاقوامی کمپنیوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ بالخصوص خواتین کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں۔

وائس چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بلال خان کاکڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ نئے معاشی زونز اور صنعتی اداروں کے قیام سے مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔

اس موقع پر بی ٹیوٹا حکام نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت صوبے بھر کے 25 ہزار نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی تعلیم کے ساتھ عملی اور تکنیکی مہارتوں کا حصول بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق جاب فیئر ہنر مند خواتین کو روزگار سے منسلک کرنے، ان کی معاشی خودمختاری میں معاونت اور صوبے کی اقتصادی سرگرمیوں میں ان کی شرکت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More