بلوچستان میں سرکاری محکموں کی تنظیم نو اور اصلاحات کا فیصلہ
کوئٹہ، 14 اکتوبر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں گورننس بہتر بنانے، سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی کے لیے تمام سرکاری محکموں کی تنظیم نو اور اصلاحات کا فیصلہ کرتے ہوئے محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جامع سفارشات طلب کر لی ہیں۔
وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے، افرادی قوت، غیر ترقیاتی اخراجات اور عوامی خدمات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے مختلف محکموں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
میر سرفراز بگٹی نے مختلف محکموں میں غیر ضروری بھرتیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل کی ایک ایک پائی قومی امانت ہے اور ان کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان وسائل کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے، خصوصاً ان غریب شہریوں کو جنہیں بنیادی ضروریات زندگی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے دستیاب وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے، اس کے باوجود عوام کو مطلوبہ معیار کی خدمات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ سرکاری محکموں کو غیر ضروری بھرتیوں کے بجائے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے والے اداروں میں تبدیل کرنا ہوگا۔ حکومت کو روزگار کے مواقع شعبہ جاتی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پیدا کرنے چاہییں تاکہ سرکاری خزانے پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات، وسائل کی مؤثر تقسیم اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ گورننس کے مسائل کا حل اپنی انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے تدارک میں ہے۔ بلوچستان کی بہتری کے لیے داخلی مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر قابلِ عمل اقدامات کرنا ہوں گے۔
میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ صوبے کی ترقی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے جائیں گے اور اصلاحات کے عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے محکموں کے انتظامی ڈھانچے، افرادی قوت، اخراجات اور کارکردگی کا جامع جائزہ لے کر اصلاحات سے متعلق قابلِ عمل سفارشات مرتب کریں۔ انہوں نے یکساں نوعیت کے فرائض انجام دینے والے محکموں کے ممکنہ انضمام اور غیر ضروری افرادی قوت میں کمی کے حوالے سے بھی تجاویز طلب کیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھائی جائے گی، اخراجات میں نظم و ضبط لایا جائے گا اور عوامی مفاد کو حکومتی اقدامات کا محور بنایا جائے گا۔ سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس اگلے روز بھی جاری رہے گا، جس میں اصلاحات کے لیے نتیجہ خیز تجاویز مرتب کی جائیں گی۔