Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

قومی سلامتی سیاست سے بالاتر، ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے، وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ، 17 اکتوبر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات عزت و احترام پر مبنی ہیں اور وہ ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتے ہیں، تاہم قومی سلامتی اور دہشت گردی جیسے حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے زمینی حقائق اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو بھی پیش نظر رکھیں گے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی اختلافات کے باوجود حکومت اور اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اور اہم فیصلوں پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، جبکہ حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتوں کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی یکجہتی کی اہم مثال ہے۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کے بیانات بھی اس حوالے سے سیاسی قیادت کی ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ اور ادھورے خواب ہوتے ہیں، اس لیے قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارانہ گفتگو ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ بیانات کے بجائے حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاسی اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھنا اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاست کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More