Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

لاہور ہائیکورٹ کا رجسٹری محرر اور رجسٹرار کی عبوری ضمانتیں مسترد

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں 40 فیصد افسران کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ محکمے میں ڈیپوٹیشن کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، تب ہی محکمہ بہتر انداز میں کام کرسکے گا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ کا جائزہ لینے سے جعلسازی ظاہر ہوتی ہے اور یہ ملی بھگت سے کی گئی ہے، ایک غلط رجسٹری سے جائیداد کی مالیت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے، رجسٹریوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، لوگ خوار ہو رہے ہیں، لیکن متعلقہ حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

عدالتی حکم پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نئے قواعد تیار کرکے چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ اینٹی کرپشن میں سپیشل پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں، ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ مقدمات کی پیروی کے لیے فوجداری مقدمات کے وکلا کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کیس خراب کر دیتے ہیں، جبکہ پراسیکیوشن میں بھرتیوں کے لیے باقاعدہ اشتہار جاری کیا جانا چاہیے تاکہ اہل افراد کو میرٹ پر تعینات کیا جاسکے۔

عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو نئے قواعد میں ترمیم سے متعلق تجاویز پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت بھی کی۔

عدالت کی جانب سے ملزمان کی عبوری ضمانتیں مسترد ہونے کے بعد جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں قانونی کارروائی آگے بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ سماعت کے دوران اینٹی کرپشن کے نظام، افسران کی تعیناتی اور پراسیکیوشن کے طریقہ کار سے متعلق اہم سوالات بھی زیرِ بحث آئے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More