Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

گلگت بلتستان کا 79واں یومِ آزادی، شہدا کو خراجِ عقیدت، ترقی و خوشحالی کا عزم

مرکزی تقریب گلگت کے چنار باغ میں منعقد ہوئی، جہاں گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ اور وزیراعلیٰ امجد حسین نے قومی پرچم لہرایا، گلگت بلتستان پولیس کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے تحریکِ آزادی 1947 کے شہدا کی یادگار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے یکم نومبر کو گلگت بلتستان کی تاریخ کا اہم اور یادگار دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن آزادی، قربانی، اتحاد اور حب الوطنی کی علامت ہے، انہوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کرنے والے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ آزادی کے بعد گلگت بلتستان کا پاکستان سے الحاق عوام کی ملک سے محبت کا اظہار تھا۔

وزیراعلیٰ نے گلگت بلتستان کو ترقی یافتہ خطہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد، مسلسل کوششوں، مؤثر منصوبہ بندی اور اچھی حکمرانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے فرقہ وارانہ، لسانی اور گروہی تعصبات سے بالاتر ہو کر کام کرنے، برداشت، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے پر زور دیا اور کہا کہ نفرت، بداعتمادی اور تقسیم پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔

امجد حسین نے معیاری تعلیم، بہتر صحت کی سہولیات اور باعزت روزگار کو حکومت کی اہم ترجیحات قرار دیا، جبکہ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی اور معاشی سرگرمیوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

گورنر سید مہدی شاہ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کی آزادی شہدا کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، انہوں نے یکم نومبر کو تاریخی اور خوشی کا دن قرار دیتے ہوئے آزادی کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ آزادی کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری ہے۔

خطے میں معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، وزیراعظم شہبازشریف

وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ آزادی پر گلگت بلتستان کے عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے تحریکِ آزادی میں شریک رہنماؤں اور عوام کی جرات، عزم اور قربانیوں کو سراہا، انہوں نے یکم نومبر 1947 کو ڈوگرہ راج کے خاتمے اور پاکستان سے الحاق کا تاریخی دن قرار دیا۔

وزیراعظم نے گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی تجارت اور پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے خطے میں معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ وفاقی حکومت توانائی، تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے معیارِ زندگی بہتر بنانے اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

شہباز شریف کے مطابق 16 میگاواٹ کا نلتر پن بجلی منصوبہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ سستی بجلی کی فراہمی کے لیے 100 میگاواٹ کے سولر پاور پروگرام پر کام شروع کیا گیا ہے، اس منصوبے کے تحت 58 میگاواٹ مجموعی صلاحیت کے سولر پینل ڈیجیٹل قرعہ اندازی کے ذریعے مفت تقسیم کیے جا رہے ہیں، جبکہ اب تک تقریباً ایک لاکھ پینل تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں سلطان آباد، بنجی، گانچھے اور اسکردو میں 12 ارب 46 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے 4 دانش اسکولوں کی بنیاد رکھی گئی ہے، وزیراعظم کے مطابق ان اسکولوں میں مالی مشکلات کا شکار باصلاحیت طلبہ کو معیاری تعلیم اور رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی، لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں 4 ہزار 245 لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے، جبکہ خطے کے طلبہ کو کروم بکس کی تقسیم میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے مکپون داس کو خصوصی اقتصادی زون قرار دینے کی منظوری دے دی ہے، 250 ایکڑ پر مشتمل اس مجوزہ زون میں 155 صنعتی اور تجارتی اداروں کی گنجائش ہوگی جبکہ تقریباً 5 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

عوامی تحفظ کے حوالے سے انہوں نے گلگت بلتستان سیف سٹی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے افتتاح اور سکردو میں اسی نوعیت کا منصوبہ شروع کرنے کا ذکر کیا، وزیراعظم نے مالی مشکلات کے حل، ادارہ جاتی و انتظامی اصلاحات اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے وفاقی تعاون جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

مریم نوازکا گلگت بلتستان کےعوام کو مبارکباد کا پیغام

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی گلگت بلتستان کے عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے یکم نومبر کو ان کی جرات، عزم اور آزادی کی جدوجہد کی علامت قرار دیا، انہوں نے آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو سراہتے ہوئے گلگت بلتستان کو پاکستان کا لازمی حصہ اور قومی یکجہتی کی علامت قرار دیا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ خطے کی منفرد روایات، ثقافت اور قدرتی حسن اسے سیاحوں کے لیے اہم مقام بناتے ہیں، جبکہ اس کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح مشترکہ ذمہ داری ہے۔

یکم نومبر1947 کو کیا ہوا تھا؟

گلگت بلتستان کی تحریکِ آزادی نومبر 1947 میں شروع ہوئی، جب برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے بعد مقامی افراد نے ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کی۔ یکم نومبر 1947 کو مقامی انقلابیوں نے گلگت میں ڈوگرہ انتظامیہ کا تختہ الٹ کر خطے میں اس کی حکمرانی ختم کر دی۔

یہ پیش رفت تقسیمِ ہند کے بعد جموں و کشمیر میں جاری وسیع تر تنازع کے دوران سامنے آئی۔ بعد ازاں یہ خطہ پاکستانی انتظامیہ کے زیرِ انتظام آگیا۔ یکم نومبر کو ہر سال گلگت بلتستان کا یومِ آزادی منایا جاتا ہے اور اس جدوجہد میں حصہ لینے والوں کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More