Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

بلوچستان میں نئے انتظامی یونٹس اور مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

اسلام آباد، 21 اکتوبر 2026: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورننس کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے، بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے اور انتظامی امور عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے مزید انتظامی اکائیوں، مضبوط بلدیاتی نظام اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔

صنوبر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان کی انتظامی تنظیمِ نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع رقبے کے باعث صوبے کو صرف کوئٹہ سے مؤثر انداز میں چلانا ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے۔ اس لیے موجودہ گورننس ماڈلز، انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے امکانات کا سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی تنظیمِ نو پر قومی مکالمے کا آغاز خوش آئند ہے، تاہم اس بحث کو سیمینارز اور ہوٹلوں تک محدود رکھنے کے بجائے پارلیمنٹ میں لے جانا چاہیے تاکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے پیدا ہو اور قابلِ عمل تجاویز سامنے آئیں۔

میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اور دیگر صوبوں کے جغرافیائی حجم کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ایک ضلع میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کے لیے بھی دس گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے خضدار کے دور افتادہ علاقے سارونہ کے قریب ایک مزار پر خودکش حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ضلعی ہیڈکوارٹر سے جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تقریباً نو گھنٹے درکار تھے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال انتظامی فاصلے اور عوامی خدمات کی فراہمی کے درمیان موجود مشکلات کو واضح کرتی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں ڈویژنز کی تعداد آٹھ سے بڑھا کر بارہ جبکہ اضلاع کی تعداد تقریباً 36 سے بڑھا کر 41 کی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بڑے اضلاع کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرکے سرکاری خدمات تک عوام کی رسائی بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم میں آبادی کے ساتھ جغرافیائی وسعت، انتظامی ضروریات اور عوام تک خدمات کی رسائی کو بھی مناسب اہمیت ملنی چاہیے۔

بلدیاتی نظام کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان میں موجودہ بلدیاتی اداروں کی مدت 8 فروری کو مکمل ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر بلدیاتی انتخابات کے لیے تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کر چکی ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے مقامی مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکتے ہیں، جس سے صوبائی اور قومی نمائندوں کو قانون سازی اور وسیع تر پالیسی معاملات پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی انتظامی، معاشی اور ترقیاتی ضروریات کو قومی پالیسی سازی میں مناسب مقام دیا جائے اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے محض بیانات کے بجائے مؤثر انتظامی اصلاحات اور وسائل کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More