Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

ڈیجیٹل گورننس کے فروغ پر زور، سرکاری خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی ناگزیر قرار

کوئٹہ، 2 نومبر 2026ء: وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل سروس ڈلیوری جدید طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے، جس کے ذریعے سرکاری خدمات میں شفافیت، تیزی اور مؤثریت لانے کے ساتھ عوامی مشکلات کم اور سرکاری اداروں پر شہریوں کا اعتماد مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی میں ڈیجیٹل سروس ڈلیوری کے موضوع پر منعقدہ افتتاحی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع رقبے اور دور دراز آبادیوں پر مشتمل صوبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کا فروغ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے سرکاری خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچانے، دفتری پیچیدگیاں کم کرنے اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس محض ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام نہیں بلکہ سرکاری نظام میں اصلاحات، شفافیت، جوابدہی اور عوامی ضروریات کے مطابق خدمات کی فراہمی کا جامع طریقہ کار ہے۔ موجودہ دور ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے سرکاری افسران کو جدید انتظامی مہارتوں، ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اپنی استعداد مسلسل بہتر بنانا ہوگی تاکہ سرکاری امور کو تیز رفتار، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

صوبائی مشیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان سرکاری امور کی ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی خدمات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ سے شہریوں اور سرکاری اداروں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور روایتی دفتری طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے بروقت عوامی ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ڈیجیٹل سہولیات کی منصوبہ بندی اور فراہمی میں خواتین کی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی جائے تاکہ انہیں صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور دیگر بنیادی سرکاری خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو، خصوصاً دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بلوچستان سول سروسز اکیڈمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ تربیت، انتظامی استعداد کار میں اضافے اور جدید طرز حکمرانی سے متعلق آگاہی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان سول سروسز اکیڈمی حفیظ جمالی کی کاوشوں کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔

واضح رہے کہ بلوچستان سول سروسز اکیڈمی نے اکاؤنٹیبلٹی لیب پاکستان کے اشتراک سے صوبائی محکموں کے 30 سرکاری افسران کے لیے ڈیجیٹل گورننس کے موضوع پر تین روزہ تربیتی کورس شروع کیا ہے۔ تربیتی پروگرام کا مقصد مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس کے جدید ذرائع اور نئے اندازِ فکر کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور عوام کو بروقت معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے امید ظاہر کی کہ اکیڈمی مستقبل میں بھی جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل گورننس اور مؤثر عوامی خدمت کے حوالے سے تربیتی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More