Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

جیکب آباد میں مہران یونیورسٹی کیمپس نو سال بعد بھی قائم نہ ہوسکا، 9 کروڑ روپے کا بجٹ واپس

لاڑکانہ/جیکب آباد: جیکب آباد میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے کیمپس کا منصوبہ نو سال گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہ کرسکا، جبکہ منصوبے کے ابتدائی کام اور ضروری سازوسامان کی خریداری کے لیے مختص 9 کروڑ روپے مبینہ طور پر استعمال نہ ہونے کے باعث واپس قومی خزانے میں جمع ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق 20 فروری 2018 کو مہران یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اسلم عقیلی نے گورنمنٹ کامرس کالج جیکب آباد کی عمارت میں کیمپس کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا۔ اس موقع پر سید فرمان علی شاہ کو کیمپس کا پہلا پرو وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا۔ منصوبے کا مقصد علاقے کے طلبہ کو انجینئرنگ اور اعلیٰ تکنیکی تعلیم کے مقامی مواقع فراہم کرنا تھا۔

مستقل کیمپس کی تعمیر کے لیے تقریباً تین ایکڑ اراضی درکار تھی، جبکہ اس وقت دستیاب زمین کا رقبہ 86 ہزار 912 مربع فٹ تھا۔ سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی محمد میاں سومرو نے بھی یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے قریشی پمپ کے قریب اپنی ذاتی زمین بلا معاوضہ دینے کی پیشکش کی تھی، تاہم یہ پیشکش بھی منصوبے کو آگے بڑھانے میں مؤثر ثابت نہ ہوسکی۔

اس منصوبے کے حوالے سے ایک اہم انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ حکومت نے ابتدائی تعمیراتی کام، بنیادی ڈھانچے کی تیاری اور ضروری آلات کی خریداری کے لیے 9 کروڑ روپے جاری کیے تھے۔ تاہم متعلقہ یونیورسٹی انتظامیہ اور ضلعی سطح پر مبینہ انتظامی غفلت اور تاخیر کے باعث یہ رقم بروقت استعمال نہ ہوسکی اور بالآخر واپس قومی خزانے میں جمع ہوگئی۔

جیکب آباد کی سول سوسائٹی، تاجروں، وکلا، طلبہ تنظیموں اور شہریوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے جامشورو اور دیگر دور دراز شہروں کا سفر کرنا غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے مشکل ہے۔ مقامی کیمپس قائم نہ ہونے سے باصلاحیت طلبہ اعلیٰ تکنیکی تعلیم کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر تعلیم، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وائس چانسلر مہران یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ جیکب آباد کیمپس کو فوری طور پر فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، محمد میاں سومرو کی جانب سے پیش کردہ زمین پر تعمیراتی کام شروع کیا جائے اور 9 کروڑ روپے کے فنڈز استعمال نہ ہونے کے معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فنڈز کے ضیاع اور منصوبے میں طویل تاخیر کے ذمہ دار افسران کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More