استا محمد میں مرغی کے گوشت کی قیمت 660 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، شہری پریشان
استا محمد (رپورٹ: عبداللہ مگسی)، 20 اکتوبر: ضلع استا محمد میں مرغی کے گوشت کی قیمت میں اضافے نے عام شہریوں، خصوصاً مزدوروں اور دیہاڑی دار طبقے کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ مقامی اطلاعات کے مطابق ضلع کے ہیڈکوارٹر میں مرغی کا گوشت 660 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ کوئٹہ میں اس کی قیمت تقریباً 550 روپے فی کلو بتائی گئی ہے۔
دوسری جانب مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر مرغی کا گوشت فروخت کرنے کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر استا محمد نے کارروائی کرتے ہوئے مختلف قصابوں پر جرمانے عائد کیے ہیں۔ شہریوں نے انتظامیہ کی کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کی نگرانی کے لیے مستقل اقدامات کیے جائیں تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔
شہریوں کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل مرغی کا گوشت 500 روپے فی کلو سے کم قیمت پر دستیاب تھا، تاہم اب اس کی قیمت بڑھ کر 660 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مزدور اور دیہاڑی دار افراد کے لیے اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عوام نے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر استا محمد سے مطالبہ کیا ہے کہ مرغی کے گوشت کی خریداری اور فروخت کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے، مارکیٹ میں نرخوں کی جانچ پڑتال کی جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر گوشت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
شہریوں نے مرغی کے گوشت کی قیمت 500 روپے فی کلو مقرر کرنے کے لیے بھی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے۔