Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

پاک چین زرعی تعاون، جدید کاشتکاری کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت

چینگدو، 15 اکتوبر: اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور چین کی سیچوان زرعی یونیورسٹی نے زرعی تحقیق، غذائی تحفظ اور پائیدار کاشتکاری کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت میں مزید پانچ سال کی توسیع کر دی ہے۔

معاہدے کی تجدید چین کے صوبہ سیچوان کے شہر چینگدو میں سیچوان زرعی یونیورسٹی کی 120ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر کی گئی۔ اس موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور قومی مرکز برائے مخلوط کاشتکاری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد علی رضا بھی موجود تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا کہ دونوں جامعات کے تعاون سے قومی مرکز برائے مخلوط کاشتکاری کا قیام ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ مرکز چینی جدید زرعی ٹیکنالوجی کو پاکستان کے موسمی حالات اور مقامی کسانوں کی ضروریات کے مطابق بہتر بنا رہا ہے۔

مرکز نے مکئی اور سویا بین، گنے اور سویا بین، جبکہ کپاس اور سویا بین کی پٹیوں میں مشترکہ کاشت کے جدید طریقے متعارف کرائے ہیں، جن پر پاکستان میں 12 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے پر عمل کیا جا رہا ہے۔

تحقیق کار اب گندم اور گنے پر مبنی مخلوط کاشتکاری کے مزید جدید طریقوں پر کام کر رہے ہیں، جن کا مقصد زمین، پانی اور غذائی اجزا کا مؤثر استعمال، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بہتر مطابقت اور زرعی پیداوار میں پائیدار اضافہ ہے۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 2021 میں تعاون کے آغاز سے اب تک یونیورسٹی کے 56 طلبہ اور طالبات سیچوان زرعی یونیورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے مکمل مالی معاونت پر وظائف حاصل کر چکے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور غذائی تحفظ سے متعلق تعلیمی و تکنیکی جدت کے بین الاقوامی اتحاد کی قائمہ کونسل میں شامل واحد پاکستانی ادارہ بھی ہے۔ یہ اتحاد سیچوان زرعی یونیورسٹی کی جانب سے غذائی تحفظ کے شعبے میں تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More