Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

لاہور ہائیکورٹ نے سیلز اور انکم ٹیکس کے تاخیر سے دائر ریفرنسز مسترد کر دیئے

عدالت نے قرار دیا ہے کہ دفتری اعتراضات دور کرنے کے لیے دی گئی مہلت کو قانونی مدت میں توسیع تصور نہیں کیا جا سکتا اور مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد نامکمل درخواست کو مکمل کرنے سے وہ قانونی طور پر بروقت دائر شدہ نہیں بن جاتی۔

جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس منور اقبال دوگل پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی نظائر کی روشنی میں نامکمل درخواستیں قانونی طور پر دائر شدہ تصور نہیں ہوں گی، دفتری اعتراضات دور کرنے کی مہلت کو ریفرنس دائر کرنے کی مقررہ قانونی مدت میں توسیع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ قانونِ میعاد (لمیٹیشن) کے اطلاق کے معاملے میں سرکاری محکمے اور عام شہری برابر ہیں، ایف بی آر سمیت کسی بھی سرکاری ادارے کو تاخیر کی بنیاد پر خصوصی یا امتیازی رعایت نہیں دی جا سکتی، دفتری طریقہ کار اور محکموں کی اندرونی روایات کو بنیاد بنا کر درخواستیں تاخیر سے دائر کرنے کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے کے مطابق سال 2023 میں دائر کیے گئے ٹیکس ریفرنسز میں تقریباً تین سال بعد تاخیر معافی کی درخواستیں دائر کرنا غیر معقول ہے، درخواست گزار اپنی غفلت اور نامکمل درخواستیں دائر کرنے کی ذمہ داری ہائیکورٹ کے دفتر پر عائد نہیں کر سکتے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے دائر تاخیر معافی کی متفرق درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیصلے کی مصدقہ نقل اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More