Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

جیکب آباد: ایمبولینس نہ ملنے پر بچے کی میت لوڈر رکشے میں منتقل، سندھ حکومت اور فلاحی اداروں کی ہنگامی خدمات پر سوالات

جیکب آباد: سول اسپتال جیکب آباد میں مبینہ طور پر ایمبولینس فراہم نہ کیے جانے کے باعث بلوچستان سے علاج کے لیے آنے والے ایک غریب خاندان کو اپنے جاں بحق بچے کی میت لوڈر رکشے میں منتقل کرنا پڑی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سرکاری صحت کی سہولتوں، ضلعی انتظامیہ اور ایمبولینس خدمات کی دستیابی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے سے آنے والا خاندان اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے جیکب آباد پہنچا تھا، تاہم بچے کے انتقال کے بعد ورثا کو میت اپنے آبائی علاقے لے جانے کے لیے ایمبولینس حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اہل خانہ کی جانب سے مبینہ طور پر اسپتال اور متعلقہ دفاتر سے رابطے کے باوجود گاڑی فراہم نہ ہونے پر انہیں میت لوڈر رکشے میں منتقل کرنا پڑی۔
اس واقعے نے سندھ حکومت، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور اسپتال انتظامیہ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے غریب خاندانوں کو ایسی بنیادی ضرورت کے وقت بے یارومددگار نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے یہ واضح کیا جانا ضروری ہے کہ ایمبولینس دستیاب تھی یا نہیں، درخواست کس افسر یا شعبے کو دی گئی اور اگر سہولت فراہم نہیں کی گئی تو اس کی وجہ کیا تھی۔
اس معاملے میں فلاحی اداروں اور ایمبولینس نیٹ ورکس کی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا اور دیگر فلاحی و نجی ایمبولینس سروسز سمیت متعلقہ اداروں سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جیکب آباد اور بلوچستان سے متصل علاقوں میں ہنگامی نقل و حمل کی سہولت کس حد تک دستیاب ہے، غریب خاندانوں کو رابطے کے لیے کون سا مؤثر نظام میسر ہے اور ایسی صورت حال میں فوری مدد یقینی بنانے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص ادارے کی جانب سے مدد سے انکار یا غفلت کا تعین شواہد اور اس کا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
شہری اور سماجی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سندھ حکومت اور محکمہ صحت واقعے کا فوری نوٹس لیں، ضلعی انتظامیہ اور اسپتال حکام سے جواب طلب کریں اور ایمبولینس کی عدم دستیابی یا فراہمی میں تاخیر کی وجوہات عوام کے سامنے لائیں۔ اگر کسی اہلکار کی غفلت ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عوامی حلقوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں اور میتوں کی منتقلی کے لیے واضح طریقۂ کار بنایا جائے، ایمبولینسوں کی دستیابی اور عملے کی ذمہ داریوں کی نگرانی کی جائے اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے چوبیس گھنٹے رابطہ و امداد کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
جیکب آباد کا یہ واقعہ صرف ایک خاندان کی تکلیف کا معاملہ نہیں بلکہ صحت عامہ، انسانی وقار اور ہنگامی امداد کے نظام سے متعلق ایک اہم سوال ہے: اگر کسی غریب خاندان کو اپنے بچے کی میت منتقل کرنے کے لیے بھی مناسب سہولت نہ مل سکے تو سرکاری اور فلاحی اداروں کے امدادی انتظامات کا مؤثر ہونا کیسے یقینی بنایا جائے گا؟

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More