بلوچستان کی خواتین تعلیم، بیوروکریسی اور عدلیہ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، تانیہ بازئی
کوئٹہ: معروف قانون دان ایڈووکیٹ تانیہ بازئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی بلوچ اور پشتون خواتین تعلیم، بیوروکریسی، عدلیہ اور دیگر اہم شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور تعلیمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون خواتین میں پی ایچ ڈی اسکالرز بھی موجود ہیں، جو قومی اور عالمی سطح پر اپنی نمایاں کارکردگی کے ذریعے بلوچستان کا نام روشن کر رہی ہیں۔ مختلف شعبوں میں خواتین کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ قابلیت، علم اور محنت کے ذریعے باوقار مقام حاصل کر رہی ہیں۔
ایڈووکیٹ تانیہ بازئی نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بلوچستان کی خواتین تعلیمی لحاظ سے پیچھے ہیں تو یہ اس کی غلط فہمی اور محدود سوچ ہے۔ بلوچستان کی خواتین میں تعلیم، شعور، صلاحیت اور آگے بڑھنے کا بھرپور جذبہ موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ اور پشتون خواتین سیاست سمیت مختلف شعبوں کے بارے میں وسیع علم اور سمجھ بوجھ رکھتی ہیں۔ محض میڈیا پر چند الفاظ بولنے سے کوئی باشعور اور اہل ثابت نہیں ہوتا، بلکہ حقیقی قابلیت کا اندازہ علم، تجربے، فہم و فراست اور عملی کارکردگی سے لگایا جاتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی خواتین اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کی بنیاد پر ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں