Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

بلوچستان میں مستقل تقرریوں پر پابندی، 100 سے زائد پی ایچ ڈی اسکالرز صوبہ چھوڑ گئے، گورنر

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں پروفیسرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی مستقل تعیناتی پر پابندی کے باعث اب تک 100 سے زائد اسکالرز صوبہ چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں برین ڈرین کی روک تھام کے لیے جامع حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وہ منگل کو بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے تیسرے سینیٹ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

گورنر نے کہا کہ صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں تعلیمی معیار اور سازگار ماحول یقینی بنانے کے لیے موجود پی ایچ ڈی اسکالرز اور سینئر پروفیسرز کو برقرار رکھنے کے ساتھ نئے پروفیسرز اور محققین کو راغب کرنے کے لیے ایک جامع اور پُرکشش حکمتِ عملی تشکیل دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ برین ڈرین کی روک تھام اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں علمی و تحقیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس سے جامعات کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے اور طلبہ کو جدید علم و تحقیق سے آراستہ کرنے میں مدد ملے گی۔

گورنر جعفر خان مندوخیل نے وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، تاہم اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے صوبے میں نئی جامعات اور کیمپسز کا قیام انفرادی خواہشات کی بجائے مقامی ضروریات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر عمل میں لایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ کیمپسز کی افادیت کا جائزہ لے کر انہیں برقرار رکھنے، ضم کرنے یا ختم کرنے کے حوالے سے پالیسی ساز فیصلے کیے جائیں۔

گورنر نے نشاندہی کی کہ بعض جدید شعبہ جات میں سینئر اساتذہ کی شدید کمی ہے، جبکہ بعض روایتی شعبہ جات میں طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں تدریسی عملہ زیادہ ہے۔ انہوں نے اس عدم توازن کو دور کرنے اور انسانی وسائل کی مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے مؤثر پالیسی سازی، دستیاب وسائل کا دانشمندانہ استعمال اور علمی و تحقیقی معیار میں مسلسل بہتری ضروری ہے۔

اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل، قائد حزبِ اختلاف میر یونس عزیز زہری، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد شاہ، رجسٹرار انجینئر لیاقت لہڑی اور سینیٹ کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران سینیٹ ارکان کی تجاویز اور سفارشات پر غور کے بعد یونیورسٹی کی تعلیمی اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے اختتام پر سینیٹ ارکان میں یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More