Dailybarwaqt1.0
My WordPress Blog

خیبرپختونخوا کی جیلوں کو اصلاح اور بحالی کے اداروں میں تبدیل کرنا ہوگا: فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے کی جیلوں میں اصلاحات اور جیلوں و عملے کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں مشیر جیل خانہ جات و داخلہ کفایت اللہ، آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اُنہوں نے کہا کہ قیدیوں کو تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق، معیاری طبی سہولیات اور بہتر ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں آئی جی جیل خانہ جات نے گورنر کو جیلوں میں اصلاحات، پریزن انڈسٹری، ڈیجیٹلائزیشن، قیدیوں کی گنجائش، ورچوئل کورٹس، ماڈل انٹرویو رومز اور طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی

بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا پریزن اینڈ کریکشن ایکٹ 2026 کے ترمیمی ایکٹ کو جانچ پڑتال کے لیے محکمہ قانون بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ جیلوں میں تمام قیدیوں کا ڈیٹا مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ صوبے کی 11 جیلوں میں ورچوئل کورٹس جبکہ پانچ جیلوں میں ماڈل انٹرویو رومز متعارف کرائے گئے ہیں، مردان، پشاور اور ہری پور کی جیلوں میں قیدیوں کو ہنرمند بنانے اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے پریزن انڈسٹری بھی قائم کی گئی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ ہر ضلع میں قیدیوں کے تشخیصی ٹیسٹوں کے لیے لیبارٹریوں کے ساتھ اشتراک عمل کے قیام پر کام کیا جائے، صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان جیلوں کے دوسرے مرحلے کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیل خانہ جات کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون اور سپورٹ فراہم کریں گے، قیدیوں کی تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ جیلوں میں بنیادی انسانی حقوق اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More